خوابیدہ آرزوؤں کو بیدار کر دیا
Poet: Tariq Butt By: Gulbose, Karachiخوابیدہ آرزوؤں کو بیدار کر دیا
یادوں نے کیسا دشت کو گلزار کردیا
چہکا تھا اک گلاب سرِ شاخسارِ دل
ہر جذبہ جس نے زمزمہ آثار کر دیا
ہر آرزو کے پاؤں میں پایل چھنک گئی
سارے بدن کو گونجتی جھنکار کر دیا
لگتا تھا جیسے جھوم رہی ہو فضا تمام
کچھ ایسا قربِ یار نے سرشار کر دیا
اب خود کلامیوں کی بھی فرصت نہیں رہی
کیسا ہجومِ کار نے بیکار کر دیا
جب سے گیا ہے آنکھ سے اک سیم تن کا خواب
ارزانیِ خیال نے نادار کردیا
گھر سے چلے تو ہم بھی بڑے کج کلاہ تھے
راہوں کے پیچ و تاب نے ہموار کر دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






