ہوا ہے ایسی کہ سارے چراغ بجھنے لگے
Poet: Tariq Butt By: Gulbose, Karachiبجھے تو دل بھی تھے، پر اب دماغ بجھنے لگے
ہوا ہے ایسی کہ سارے چراغ بجھنے لگے
یہ کیسی پیاس ہے، اے اہل درد، کچھ تو کہو
کہ تشنگی نہ بجھی ، اور ایاغ بجھنے لگے
یہیں کہیں سے تو گزرا تھا ، کاروانِ مراد
ہوائے دشت، ٹھہر جا ! سراغ بجھنے لگے
ابھی تو دل میں فروزاں تھے یادِ گل کے چراغ
ابھی سے کیوں میرے جذبوں کے باغ بجھنے لگے
ہوا سے لینی تھی دادِ مبارزت طلبی
بغیر بھڑکے ہی یہ کیوں چراغ بجھنے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






