خوبصورت لمحوں کو خواب لکھتا ہے
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAلوگ کہتے ہیں پاگل شاعر کیا کیا لکھتا ہے
جنون عشق میں عاشقوں کا مقام لکھتا ہے
چھائی رہتی ہے ہر پل بے خودی سی طاری
ایسے عالم میں نہ جانے کیا کیا لکھتا ہے
جیون بھر کے ارمانوں کو یکجا کر کے
کبھی شعروں میں ڈھالتا ہے اور نظم لکھتا ہے
اداس لمحوں کی بیتی یادوں کو یاد کر کے
خون جگر کی روشنائی سے کبھی شام لکھتا ہے
شام تنہائی ہو، شام جدائی ہو یا ہو شام تمنائی
ایسی ہر شام ہاں ہر شام اُسی کے نام لکھتا ہے
کچھ حسیں لمحے جو گزارے تھے ساتھ اُس کے
ایسے خوبصورت لمحوں کو بھی خواب لکھتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






