دل جاگیر ہو اُس کی جیسے
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAپہلی نظر میں کچھ ایسا کمال تھا
شرابی نگاہوں میں چھپا اک سوال تھا
شام کا وہ حسیں پہر بھلا نہیں سکتا
دل کی امنگوں کو میں سُلا نہیں سکتا
نشیلی آنکھوں میں کچھ ایسا سحر تھا
اپنا اپنا لگا مگر اپنا تھا نہ وہ غیر تھا
شباب حسن کا مرقعہ دل میرا بھگا گیا
انگڑائیوں میں لطیف جزبات جگا گیا
آنکھوں کے رستے دل میں اترتا گیا
بھلانا چاہا تو دل کو بے چین کرتا گیا
خوابوں کی دنیا میں وہ بسا کچھ ایسے
جاوید کا دل جاگیر ہو اُس کی جیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






