خود کلامی
Poet: Mussawar Ali Baloch By: Mussawar Ali Baloch, Kaسوال یہ ہے کہ چاہتوں کا جو سلسلہ تھا
جنوں سے عاری کیوں ہو چلا ہے؟
جو وقت چاہت میں قیمتی تھا
وہ وقت بھاری کیوں ہو چلا ہے؟
کیوں؟ نامکمل خوشی ہے اب بھی؟
کہیں پہ جیسے کمی ہے اب بھی
بجھے بجھے سے یہ قہقہے ہیں
غموں میں لپٹی ہنسی ہے اب بھی
سنا ہے اکثر محبتوں جو ایک بدلے
تو دوسرا پھر کبھی نہ سنبھلے
یقیں کا دامن جو چھوٹ جائے
تو بے یقینی کے ہونگے حملے
سوال یہ ہے؟
سوال یہ ہے کہ یقیں کی عادت ہے کیسے چھوٹی؟
سوال یہ ہے یہ نگری چاہت کی کس نے لوٹی؟
سوال یہ ہے کہ کس نے اپنی ترجیحات بدلیں؟
سوال یہ ہے کہ اس میں کس کی ہے آس ٹوٹی؟
جواب یہ ہے
جواب یہ ہے کہ مادیت پرستی نے ہم کو ڈسا ہے ایسے
کہ پیار دل سے نکل گیا ہے
سٹیٹسوں کا جنوں ہے ہر سو
اعتبار دل سے نکل گیا ہے
جواب یہ ہے کہ ترقیوں میں جو سوچ بدلی
تو رشتے، ناطے بدل ہی جائیں
خیال میں" روشنی" جو امڈی
اصول سارے پھسل ہی جائیں
جواب یہ ہے، محبت تو اک سوچ ہے جو
بس خواب بن کے دلوں میں زندہ ہے
حقیقتوں میں تو مر چکی ہے
عذاب بن کے دلوں میں زندہ
سوال یہ ہے چاہتوں کے بنا بھی انساں انسان ہے کیا؟
جواب یہ ہے کہ مادی دنیا میں چاہتوں کا گمان ہے کیا؟
نہ اَمیری کی اُسے قَید، نہ غُربَت کی رَضا ہے
یہ نہ دیکھے کہ کوئی تَخت پہ بیٹھا ہُوا ہے
یا کوئی خاک کی چادَر میں لِپٹا ہُوا ہے
کبھی ہَنستے ہوئے چہروں کو رُلا جاتی ہے
کبھی آنکھوں میں بَسے خَواب مِٹا جاتی ہے
کبھی ماں باپ کا سایہ ہی اُٹھا لیتی ہے
کبھی بَچّوں کی ہَنسی چھِین کے لے جاتی ہے
یہ نہ رِشتوں کی حُرمَت، نہ تَعلق دیکھے ہے
بَس اَجَل اپَنے مَقَرّرہ ہی لمَحے دیکھے ہے
جو گیا لَوٹ کے آیا نہیں دُنیا میں کبھی ہے
بَس یَہی بات دِلوں کے لیے اِک صَدمہ ہے
غَم کی اِس گھَڑی میں صَبَر ہی مومن کا سَہارا ہے
وَرنہ یہ دُکھ تو ہر اِک دِل نے اَکیلا سَہا ہے
مظہرؔ اِس سَچ کو سمجھ لو، یَہی اَنجامِ حیات ہے
مَوت آ کر یہ بتاتی ہے کہ دُنیا فانی ہے
یہ خُون کے دَھبّے کبھی چہروں سے نہ دھُلیں گے
ہَر شہر میں پھَیلی ہوئی خاموش فَضا کو
آوازِ حَق آئیں گی تو پَتھر بھی ہِلیں گے
یہ وَقت کی عادَت ہے کہ فِرعَون بہت ہیں
مُوسیٰ بھی مگر بَطنِ زَمانہ سے نِکلیں گے
مَعصُوم لَہو مانگ رہا ہے یہ گواہی
تاریخ کے اَوراق میں یہ دن بھی لکھیں گے
زَنجیر کی جھَنکار سے ڈَرنے کی نہ کَہیو
یہ لوگ ہیں، اِک روز یہی زَنجیر بَدلیں گے
جو لوگ سَمجھتے ہیں کہ سَب خَوف میں ہیں قَید
وہ دیکھ لیں، حالات کے دھارے بھی بَدلیں گے
مظہرؔ یہ اَندھیروں کا تَسَلَط ہے فَقط آج
سُورَج ہیں اگر زِندہ تو کل پھر سے نِکلیں گے
زَمانے بھر کی رُسوائی کو بھی سِینے سے لگانے کا
جو سَچے دِل سے کرتے ہیں، وہ سَودا خَوف کا کَب ہے؟
یہ رَستہ ہے چراغِ جاں سرِ طُوفاں جَلانے کا
وَفا جب ہاتھ تھامے تو حِسابوں میں نہیں پَڑتی
یہ شیوہ ہے خَساروں میں بھی رِشتہ ہی نِبھانے کا
مُحبت مَصلِحَت کی قَید میں رَہ کر نہیں جیتی
یہ دَریا ہے کِناروں سے بَغاوَت کر کے جانے کا
جو بَدنامی کے ڈَر سے ساتھ چھوڑ آئے رہِ دِل میں
اُسے دَعویٰ تو آتا ہے، ہُنر نہیں وَفا کرنے کا
عَہد اَگر سَچاّ ہو تو مَوسم راہ نہیں روکتے
یہ حوصِلہ ہے کانٹوں پر بھی ہَنستے مُسکرانے کا
مظہرؔ عِشق وہ سَجدہ ہے جِسے دُنیا نہیں سَمجھی
یہ جَذبہ ہے فَنا ہو کر بھی مَحبُوب کو پانے کا






