محبت کا کرشمہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillمحبت کا کرشمہ ہے کہ سب کچھ خواب ہوتا ہے
وگرنہ وقت بھی اک صورت گرداب ہوتا ہے
ہم اکثر خود فریبی میں وہ صفحے چھوڑ دیتے ہیں
جہاں پر اپنے حصے کا کوئی بھی باب ہوتا ہے
بتایا ہے کسی کی نرگسی آنکھوں کے منظر نے
کہ اس مہتاب سے بڑھ کر بھی اک مہتاب ہوتا ہے
کھڑا ہے جو کسی دلہن کی صورت آئینہ لے کر
اسے پوچھو کہ کیسے دل کوئی بیتاب ہوتا ہے
اسے محسوس کرنا پڑتا ہے اشکوں کی حدت سے
ہر اک سینے میں کہیں ماہئ بے آب ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






