خون کے آنسو !!!
Poet: Asad By: Asad, mpkپھر تیرے غم ہیں کہ ستانے چلے ھیں
دل کو خون کے آنسو رلانے چلے ھیں
آہ!!! کتنے چالاک ہیں تیرے شہر والے
کہ تیرا بدلا ھم سے چکانے چلے ھیں
اچھا ھم گزرے تھے آہ ! گلی سے تیرے
کہ خون مین اپنے تر! تر نہانے چلے ھیں
اس دل پر دانستہ کوئی دباؤ نہ ڈالو
کہ ھم پہلے سے ھی گھبرانے چلے ھیں
چلو جلد پہنچو یار در پر ان کے
کہ سنا ھے وہ محبتیں اپنی لٹانے چلے ھیں
گئے گزرے دنوں سے بھلا ھم کو کیا لینا۔؟
اسد کیوں دور ماضی اب دھرانے چلے ھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






