ہم تیرا ذِکر نہیں کرتے کیا؟
Poet: UA By: UA, Lahoreہم تیرا ذِکر نہیں کرتے کیا؟
ہم تیری فِکر نہیں کرتے کیا؟
ہم صبح شام نہیں لیتے کیا؟
ہم تیرا نام نہیں لیتے کیا؟
کِسلئے سایہءِ دِیوار ہوئے؟
رو بہ آئینہ شرمسار ہوئے
تیری فرقت میں گرفتار ہوئے
صِرف تیرے ہی طلبگار ہوئے
پِھر بھی ہم غیر شمار ہوئے
تیری محفل میں ہمی خوار ہوئے
دامنِ شوق تھامنے والے
آخرش غم سے تار تار ہوئے
ستم پہ کج ادائیوں پر بھی
تیری بے اعتنائیوں پر بھی
جفاؤں بے وفائیوں پر بھی
صبر سے کام نہیں لیتے کیا؟
ہم صبح و شام نہیں لیتے کیا؟
ہم تیرا نام نہیں لیتے کیا؟
ہم تیرا ذکر نہیں کرتے کیا؟
ہم تیری فِکر نہیں کرتے کیا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







