خُوشی میں بھی غَمی کو یاد کرتا ہے

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

خُوشی میں بھی غَمی کو یاد کرتا ہے
ابھی بھی دِل تُجھی کو یاد کرتا ہے

وہ چندا آج بھی جلتا ہے تُجھسے جب
تُمھاری چاندنی کو یاد کرتا ہے

مُجھے ڈر ہے کے کافِر دِل نا ہو جاۓ
نمازوں میں تُجھی کو یاد کرتا ہے

بُجھا سا وہ ترا پروانا اے شمع
تُمھاری روشنی کو یاد کرتا ہے

ہمیشہ بُھول کر نیکی مُنافِق یار
محافل میں بَدی کو یاد کرتا ہے

اے گاؤں والو مجُھکو اِتنا بَتلاؤ
کبھی وه بھی دُکھی کو یاد کرتا هے

مسلماں نام کے ہیں بچ گۓ سارے
نا کوئ بندگی کو یاد کرتا ہے

جِسے ہے شوق باقرؔ شعر پڑھنے کا
وہ تیری شاعری کو یاد کرتا ہے

Rate it:
Views: 476
01 May, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL