روز مِلنے کا مرا وعدہ نہیں

Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, میانوالی

روز مِلنے کا مرا وعدہ نہیں
کیا خبر کل زِنده ہونگا یا نہیں

لَگ گئ شاید رقیبوں کی نَظَر
مُجھسے مِلنے یار جو آتا نہیں

واه نَصیبا تیری ہیرا پھیریاں
سامنے ہو کے بھی وه میرا نہیں

ایسے بھی دِن آئیں گے سوچا نا تھا
میں جو دِل مانگوں وہ کہہ دے گا نہیں

میں خُدا کی ذات سے ڈرتا ہوں بَس
بندوں کے آگے کبھی جُھکتا نہیں

میری جانب دیکھ نا حیرت سے تُو
تُجھ کو جو لگتا ہوں میں ویسا نہیں

بات سَچی موں پہ ہی کہہ دیتا ہوں
سَچ کو کہنے سے میں گھبراتا نہیں

شاعری میں ہے مُجھے حاصِل کمال
ہاں مگر اِتنا مرا چرچا نہیں

باقرؔ اُس کی دیکھ نا اِنصافیاں
دِل مرا واپس مُجھے دیتا نہیں

Rate it:
Views: 477
01 May, 2015
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL