خیالوں میں ہوتا نہیں
Poet: Khalid Pervez By: Khalid Pervez, Saukin Wind, Pasrur, Sialkotخیالوں میں ہوتا نہیں جو ہو جاتا ہے کبھی
کبھی بھی اتنا گمان نہ کر کہ پچھتانا پڑے
قوت بازو بھی دیتی نہیں سہارا مشکل میں
تیز موجوں میں بھی کبھی ڈوب جانا پڑے
سدا رہتے نہیں چمن میں بلبل کے ترانے
بہاروں کو سنگ موسم کا نبھانا پڑے
بدل دیتا ہے پل میں خدا تقدیرِ انساں
جب چاہے وہ جب اسے کسی کو آزمانا پڑے
نل کھیلو کھیل کسی کا دل تڑپانے کے لئے خالد
دینا ہو گا حساب یہ جہاں چھوڑ کر جانا پڑے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi








