مجھے دیکھنے آج صنم آگئے ہیں
Poet: Syed Ishtiaq Hussain Kazmi By: Waqas Shah, RAWALPINDIمجھے دیکھنے آج صنم آگئے ہیں
خوشی کی خبر لے کے غم آگئے ہیں
وہ جس حشر میں جلتے ہیں عشق والے
اسی آگ میں جلنے ہم آ گئے ہیں
اب مشکلوں کو ہی جانا پڑے گا
میری زندگی میں الم آ گئے ہیں
میری روح میں پھر زندگی ہوئی توانا
واپس صنم کے میرے دم آگئے ہیں
اب قید ہو کر ہی جینا پڑے گا
جو یاد اب تیری زلف کے خم آ گئے ہیں
روشن رہے گا اب سدا دل ہمارا
آپ کے رو برو جو ہم آگئے ہیں
خون جگر میں وہ رنگت کہاں اب
اشتیاق جوانی میں شاید کچھ خم آگئے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






