خیالِ کہکشاں غائب ، کمالِ این و آں غائب
Poet: Amer Roohani By: Amer Roohani, Islamabadخیالِ کہکشاں غائب ، کمالِ این و آں غائب
زمیں کی قید سے نکلے ، تو نیلا آسماں غائب
میں اپنے آپ کو پانے کی دھن میں مست رہتا ھوں
یہاں غائب، وہاں غائب ، عیاں غائب، نہاں غائب
گری برقِ تپاں ایسے ، جلا ڈالے سبھی تنکے
مچاں غائب ، دھواں غائب ، رمادِ آشیاں غائب
کتابِ زیست ھے روشن ترے اسمِ منّور سے
جہاں بھی نام ھے میرا وھاں سے داستاں غائب
میں اس کو دیکھتا ھوں چار سُو، بس مل نہیں پاتا
اِدھر غائب ، اُدھر غائب، نہ جانے کب کہاں غائب
یہی ادراک ھے تحت الثرٰی ، تحت الشعوری کا
جہاں منڈی فراست کی ، دکانِ عاشقاں غائب
مجھے افسوس ھے اس کا کہ تنہا ھوں سرِ منزل
جو کرتے تھے نشاں غائب ، ھُوا ان کا نشاں غائب
کچھ ایسے اوج و رجعت میں رہے تارے مقدر کے
عطا غائب ، دعا غائب ، صدا غائب ، فغاں غائب
پروھت ، پنڈت و ملّا ، سکندر ، گوتم و دارا
سوائے ذاتِ یزداں کے ، حیاتِ جاوداں غائب
اَمـَـر کامل یقیں ھے ان کی نسبت کی نگہبانی
وہیں پہ آستاں حاضر، جہاں سے سائباں غائب
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






