دارُمدار

Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawar

جن پہ اُمیدوں کا دارُمدار تھا
وہ لوگ جھُوٹے نکلے، جھُوٹا اُن کا پیار تھا

ہم غیروں سے کیا اپنوں سے لُٹ گئے
پِیٹ پہ وار پڑا سینے سے پار تھا

اُنہیں لوگوں نے زباں سے زخم دیئے
جن کی باتوں سے دل کو قرار تھا

خُوشیاں بھی بانٹنے آئے تو کس انداز میں
پھولوں کی جگہ ہاتھ میں کانٹوں کا ہار تھا

Rate it:
Views: 448
04 Jan, 2016
More Sad Poetry