داستان

Poet: Ahber By: Ghulam Muhy ud Din, Lahore

میں نا لِکھ سکا بڑی دیر تک
نا حروفِ لب نا دعا دل
سبھی التجائیں خاموش تھیں
کسی حادثے کے گُداز میں

میرے گُزرے لمحے عجیب ہیں
کہ میں آفتابِ خیال ہوں
کیا بُلند ہیں میرے حوصلے
میری داستاں کے آغاز میں

مُجھے مفلسی سے گلہ نہیں
مُجھے زور و زر کی طلب نہیں
میرا واسطہ ہے سُکون سے
میرا رابطہ ہے نماز میں

جو صحیح کیا تو صلہ مِلا
جو خطا ہوئی تو سزا ہوئی
یہ ہی فیصلہ ہے نصیب کا
یہ ہی فلسفہ ہے جواز میں

میں ندائے حُبِ قدیم ہوں
میں صدائے وقتِ جدید ہوں
میں رہا ہوں صدیوں سے مُضطرب
یوں حقیقتوں میں مجاز میں

میں رہوں بھلے  بھلے نا رہوں
یہ کلام ٹھہرے گا عمر بھر
مُجھے یہ مِلی ہیں وراثتیں
مُجھے وہ مِلا ہے نیاز میں

میں ہوں سفرِ زیست میں عہبر
نا رُکوں گا وقتِ طویل تر
کہ میرے خدا کی ہے جُستجو
میرے قلم میری آواز میں

Rate it:
Views: 534
02 Mar, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL