داستان
Poet: Ahber By: Ghulam Muhy ud Din, Lahoreمیں نا لِکھ سکا بڑی دیر تک
نا حروفِ لب نا دعا دل
سبھی التجائیں خاموش تھیں
کسی حادثے کے گُداز میں
میرے گُزرے لمحے عجیب ہیں
کہ میں آفتابِ خیال ہوں
کیا بُلند ہیں میرے حوصلے
میری داستاں کے آغاز میں
مُجھے مفلسی سے گلہ نہیں
مُجھے زور و زر کی طلب نہیں
میرا واسطہ ہے سُکون سے
میرا رابطہ ہے نماز میں
جو صحیح کیا تو صلہ مِلا
جو خطا ہوئی تو سزا ہوئی
یہ ہی فیصلہ ہے نصیب کا
یہ ہی فلسفہ ہے جواز میں
میں ندائے حُبِ قدیم ہوں
میں صدائے وقتِ جدید ہوں
میں رہا ہوں صدیوں سے مُضطرب
یوں حقیقتوں میں مجاز میں
میں رہوں بھلے بھلے نا رہوں
یہ کلام ٹھہرے گا عمر بھر
مُجھے یہ مِلی ہیں وراثتیں
مُجھے وہ مِلا ہے نیاز میں
میں ہوں سفرِ زیست میں عہبر
نا رُکوں گا وقتِ طویل تر
کہ میرے خدا کی ہے جُستجو
میرے قلم میری آواز میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






