درد دل سے جدا نہیں ہوتا

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

درد دل سے جُدا نہیں ہوتا
عشق ورنہ بُرا نہیں ہوتا

دل کی مجبوریاں ارے توبہ
زخم کوئی کشا نہیں ہوتا

اِس قدر بڑھ گئی ہے مایوسی
دست دستِ دعا نہیں ہوتا

اُس پہ الزام ِ بے وفائی کیوں
کیا مقدّر لکھا نہیں ہوتا

چاند اُس کا میرے خیالوں کی
چاندنی سے جُدا نہیں ہوتا

خواب ہوتے نہیں مگر پورے
ورنہ خوابوں میں کیا نہیں ہوتا

کھڑکیاں روز مجھ پہ کھلتیں ہیں
کوئی دروازہ وا نہیں ہوتا

رہنمائی وہ آپ کرتا ہے
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

اے دل ِ ناصبور چپ ہو جا
مجھ سے اُن کا گلہ نہیں ہوتا

دل کو ہوتی ہے راہ دل سے وسیم
ہر کوئی با وفا نہیں ہوتا
 

Rate it:
Views: 694
14 Oct, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL