درد  عشق  ہے کہ جیون کا جنوں عارف

Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف, Mississauga

آئے ہو تو درد عشق کی دوا کر جانا
تم نصیب جان ہو دو پل زرا ٹھہر جانا

دور سورج کے ندیا میں ڈوبنے سے پہلے
تم میری روح کے سرابوں میں اتر جانا

راہ عشق کے رنگ بھی عجب نرالے ھیں
عشق جاناں میں کبھی جاں سے گزر جانا

ٹھٹھرتی شام کی آغوش میں سمٹے ہو ئے
نئی صبح کے لئے رات بھر میں سنور جانا

صبا نے دیکھا نہیں مڑ کر کبھی آتے جاتے
کسی کے شر سے پھولوں کا یوں بکھر جانا

رواج عشق یہ نہیں کہ دو پل گراں گزر ے
لطف عشق میں تو صدیوں کا بھی اثر جانا

یادش بخیر

وہ لب کہ تراشے ہوئے ہیروں کی طر ح
وہ زلفیں کہ گھٹاؤں کا سماں لگنا

لو دیتے ہوئے عارض کی سرخیوں کا اثر
مہکتے پھو لوں کا سر اٹھا کے حیراں لگنا

وہ آنکھیں کہ خوابوں میں ڈوبے ہوئےنگینے
وہ چشم کہ آہو کا جنگل میں پریشاں لگنا

درد عشق ہے کہ جیون کا جنوں عارف
ہر شے میں تر ے سایوں کا گماں لگنا

 

Rate it:
Views: 946
04 Feb, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL