دست نازک سے پلا ساقی بھلا ہو تیرا

Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow

 دست نازک سے پلا ساقی بھلا ہو تیرا
دے دے مرتے کو جلا ساقی بھلا ہو تیرا

وہ جو امرت لب شیریں میں ترے ملتا ہے
گھول کر مے میں پلا ساقی بھلا ہو تیرا

بعد مدت کے مجھے تیری دعاؤں کے طفیل
میرا محبوب ملا ساقی بھلا ہو تیرا

ساتھ گزرے ہیں شب و روز جو میخواری کے
اب نہ وہ یاد دلا ساقی بھلا ہو تیرا

تیری آنکھوں کے چھلکتے ہوئے پیمانوں نے
کر دیا کیسا گلہ ساقی بھلا ہو تیرا

توڑنے ہی کے لئے ہوتی ہے توبہ ساقی
توڑ دی ہاتھ ملا ساقی بھلا ہو تیرا

اب حسن آئے نہ نزدیک بھی میخانے کے
یہ قسم اب نہ کھلا ساقی بھلا ہو تیر

Rate it:
Views: 927
14 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL