دست نازک سے پلا ساقی بھلا ہو تیرا
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow دست نازک سے پلا ساقی بھلا ہو تیرا
دے دے مرتے کو جلا ساقی بھلا ہو تیرا
وہ جو امرت لب شیریں میں ترے ملتا ہے
گھول کر مے میں پلا ساقی بھلا ہو تیرا
بعد مدت کے مجھے تیری دعاؤں کے طفیل
میرا محبوب ملا ساقی بھلا ہو تیرا
ساتھ گزرے ہیں شب و روز جو میخواری کے
اب نہ وہ یاد دلا ساقی بھلا ہو تیرا
تیری آنکھوں کے چھلکتے ہوئے پیمانوں نے
کر دیا کیسا گلہ ساقی بھلا ہو تیرا
توڑنے ہی کے لئے ہوتی ہے توبہ ساقی
توڑ دی ہاتھ ملا ساقی بھلا ہو تیرا
اب حسن آئے نہ نزدیک بھی میخانے کے
یہ قسم اب نہ کھلا ساقی بھلا ہو تیر
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






