زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے

Poet: Khalid ROOMI By: Khalid ROOMI, Rawalpindi

 زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے
اب تری یاد فراموش ہوئی جاتی ہے

بزم پھر بے خود و مدہوش ہوئی جاتی ہے
وہ نظر بادہ سر جوش ہوئی جاتی ہے

عرصہء حشر کی رونق ہیں ادائیں ان کی
نگہ خاص خطا پوش ہوئی جاتی ہے

پیر میخانہ دکاں اپنی بڑھانے کو اٹھا
مستیء شوق فراموش ہوئی جاتی ہے

عشق میں ضعف نے اس حال کو پہنچایا ہے
زندگی بار تن و توش ہوئی جاتی ہے

دل کے گلشن میں بھی آیا ہے خزاں کا موسم
آرزو محشر خاموش ہوئی جاتی ہے

اب ہمیں راحت و آرام کی خواہش ہے کہاں ؟
ہر خوشی اب تو الم کوش ہوئی جاتی ہے

سر بسر نقشہ بنا جاتا ہوں بے تابی کا
یاس ہی یاس ہم آغوش ہوئی جاتی ہے

دل میں جذبات عقیدت ہیں ، نگاہوں میں نیاز
لو، وفا صدقہء پاپوش ہوئی جاتی ہے

کوئی طوفان اٹھائے گی یقینا رومی !
پھر طبیعت جو بلا نوش ہوئی جاتی ہے

Rate it:
Views: 884
15 Oct, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL