زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے
Poet: Khalid ROOMI By: Khalid ROOMI, Rawalpindi زندگی اور بھی پر جوش ہوئی جاتی ہے
اب تری یاد فراموش ہوئی جاتی ہے
بزم پھر بے خود و مدہوش ہوئی جاتی ہے
وہ نظر بادہ سر جوش ہوئی جاتی ہے
عرصہء حشر کی رونق ہیں ادائیں ان کی
نگہ خاص خطا پوش ہوئی جاتی ہے
پیر میخانہ دکاں اپنی بڑھانے کو اٹھا
مستیء شوق فراموش ہوئی جاتی ہے
عشق میں ضعف نے اس حال کو پہنچایا ہے
زندگی بار تن و توش ہوئی جاتی ہے
دل کے گلشن میں بھی آیا ہے خزاں کا موسم
آرزو محشر خاموش ہوئی جاتی ہے
اب ہمیں راحت و آرام کی خواہش ہے کہاں ؟
ہر خوشی اب تو الم کوش ہوئی جاتی ہے
سر بسر نقشہ بنا جاتا ہوں بے تابی کا
یاس ہی یاس ہم آغوش ہوئی جاتی ہے
دل میں جذبات عقیدت ہیں ، نگاہوں میں نیاز
لو، وفا صدقہء پاپوش ہوئی جاتی ہے
کوئی طوفان اٹھائے گی یقینا رومی !
پھر طبیعت جو بلا نوش ہوئی جاتی ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






