دسمبر آنے سے پہلے آئو تو بات بنے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaدسمبر آنے سے پہلے آؤ تو بات بنے
مجھے تُم گلے سے لگاؤ تو بات بنے
بے شک نکال دیا تُم نے اپنے دل سے
البتہ دل میرے سے جاؤ تو بات بنے
مجھے تو افسانہ یاد ہے تری جفاؤں کا
کچھ کچھ تُم بھی سناؤ تو بات بنے
صدیوں سے جاگتی نگاہوں کو تُم اگر
شرط لگا کے آج سہلاؤ تو بات بنے
وفاؤں کی دہائی دینے والے ذرا
تُم ہم سے نگاہ ملاؤ تو بات بنے
دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے
وفائیں اپنی ذرا گناؤ تو بات بنے
محفل میں جل جائے گے حُسن والے بھی
جاناں! ذرا نقاب اُٹھاؤ تو بات بنے
آنسوؤں کو تھام کے صبر کے دامن سے
گیت میرے لکھے ہوئے گاؤ تو بات بنے
گھر تباہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ظالم
اِس دور میں گھر بناؤ تو بات بنے
بڑا مغرور ہو کے پھر رہا ہے چاند نہال
کومل پَری کو ذرا بلاؤ تو بات بنے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







