دسمبر آنے سے پہلے آئو تو بات بنے

Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwala

دسمبر آنے سے پہلے آؤ تو بات بنے
مجھے تُم گلے سے لگاؤ تو بات بنے

بے شک نکال دیا تُم نے اپنے دل سے
البتہ دل میرے سے جاؤ تو بات بنے

مجھے تو افسانہ یاد ہے تری جفاؤں کا
کچھ کچھ تُم بھی سناؤ تو بات بنے

صدیوں سے جاگتی نگاہوں کو تُم اگر
شرط لگا کے آج سہلاؤ تو بات بنے

وفاؤں کی دہائی دینے والے ذرا
تُم ہم سے نگاہ ملاؤ تو بات بنے

دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے
وفائیں اپنی ذرا گناؤ تو بات بنے

محفل میں جل جائے گے حُسن والے بھی
جاناں! ذرا نقاب اُٹھاؤ تو بات بنے

آنسوؤں کو تھام کے صبر کے دامن سے
گیت میرے لکھے ہوئے گاؤ تو بات بنے

گھر تباہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ظالم
اِس دور میں گھر بناؤ تو بات بنے

بڑا مغرور ہو کے پھر رہا ہے چاند نہال
کومل پَری کو ذرا بلاؤ تو بات بنے

Rate it:
Views: 1712
03 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL