دشت و ویراں میں کہیں کٹیا بسائے ہوئے لوگ
دیکھ کس حال میں رہتے ہیں ستائے ہوئے لوگ
بارشیں یوں بھی سبھی زخم ہرے کرنے لگیں
یاد آنے لگے آنکھوں سے بہائے ہوئے لوگ
منتظر اب یہاں خواہش ہے نہ میّت ہے کوئی
اس قدر دیر سے لوٹے ہیں بلائے ہوئے لوگ
کیسے جائیں گے بھلا اب وہ تسلی کے بغیر
تیرے ملنے کو بڑی دور سے آئے ہوئے لوگ
خاک ہوتی ہے فقط خاک میں ملنے کے لیے
ہم ہیں اس واسطے مٹی سے بنائے ہوئے لوگ
ضبط کی حد بھی یہاں ٹوٹ کےبکھری ہے ابھی
میری آنکھوں سے نکل آئے چھپائے ہوئے لوگ
زینؔ ہنس ہنس کے اسی بات پہ روئے جاؤں
مجھ سے روٹھے ہوئے رہتے ہیں منائے ہوئے لوگ