دعا دے رہے ہو
Poet: Noor By: Noor, oman muscatمیری موت کا سامان تیار کر کے
مجھے جینے کی دعا دے رہے ہو
میرے پیروں تلے زمیں کھینچ کر
مجھے چلتے رہنے کی دعا دے رہے ہو
ارے کس قدر ظالم ہو تم
میری آنکھوں سے خواب چھین کر
مجھے منزل کو پانے کی دعا دے رہے ہو
میرے سر سے آسماں چھین کر
مجھے چاند تارے پانے کی دعا دے رہے ہو
میرے ہونٹوں پر جو سدا سے برقرار تھی
اس انمول سی ہنسی کو اک پل میں چھین کر
مجھے سدا مسکرانے کی دعا دے رہے ہو
جس آشیانے میں میرا دن رات بسیرا تھا
اس کو اپنے ہاتھوں سے جلا کر راکھ کر دیا
اور اب مجھے گھر بسانے کی دعا دے رہے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






