Kuch Pata Nahi
Poet: Bilal Sameer By: Bilal Sameer, KarachiTumhari Aahaten Beshumaar Hain, Tumharey Wajood Ka Pata Nahi
Khwaab To Saarey Haseen Hain, Taabeeron Ka Pata Nahi
Yun Lagta Hai K Saarey Dar Tere Ghar K Hi Hain
Par Intikhaab Kis Dar Ka Karun Ye Baat Mujhey Pata Nahi
Meri Bechargi Ka Aalam To Koi Dekhey Zara Ghor Se
Girhen Suljhaney Betha Hun Siron Ka Mujhey Pata Nahi
Kanon Mein Goonjti Awaaz Ko Mein Achi Tarah Janta Hun
Par Awaaz Jis Bashar Ki Hai Mujhey Us Ka Kuch Pata Nahi
Roz Roz Tehelney Nikalta Hun, Ghanton Tehelta Hun
Par Aesa Mein Kion Karta Hun, Mujhey Khud Pata Nahi
Mein Tum Mein Gum Rehta Hun, Bus Tum Hi Ko Mein Sochta Hun
Soch Ka Markaz Pasand Hai, Soch Ka Maqsad Pata Nahi
Jitna Kuch Tum Ne Khoya Mujhey Us Ka Andaza Hai
Par Mein Ne Ab Tak Kia Kia Khoya, Mujhey Us Ka Pata Nahi
Kisi Zamaney Mein Koi Tha Jo Mere Sath Jeeta Tha
Ab Us Ka Kuch Ata Nahi, Ab Us Ka Kuch Pata Nahi
Bus Yahi Haal Ahwaal Hain, Kise Kia Bataon Sameer
Sub Kuch Pata Hai Mujhey, Phir Bhi Kuch Pata Nahi
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






