دعوت پہ بھی بارات پہ بھی ٹیکس لگے گا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiدعوت پہ بھی بارات پہ بھی ٹیکس لگے گا
شادی کی رسومات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب یار کی ملاقات پہ بھی ٹیکس لگے گا
دیدار کی ہر بات پہ بھی ٹیکس لگے گا
احسان ذرا سوچ کے تم کرنا کسی سے
بے لوث عنایات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب اپنے اثاثے کبھی ظاہر نہیں کرنا
ان تحفے مراعات پہ بھی ٹیکس لگے گا
مسجد کا تقدس بھی نہیں اب رہے گا وہ
اب فرض عبادات پہ بھی ٹیکس لگے گا
باتیں کرے گا غیر مناسب جو بھی یہاں پر
ہر ایک سوالات پہ بھی ٹیکس لگے گا
اب عشق محبت پہ بھی پاپندی ہے یہاں پر
اب نظروں کی حرکات پہ بھی ٹیکس لگے گا
ترکاری فواکہ پہ گھی گوشت آٹا پہ
اب گھر کے مکانات پہ بھی ٹیکس لگے گا
کوئی بھی برا سوچے نہ بارے میں کسی کے
شہزاد خیالات پہ بھی ٹیکس لگے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






