دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں

Poet: ریاضؔ خیرآبادی By: نعمان علی, Rawalpindi

دل جلوں سے دل لگی اچھی نہیں
رونے والوں سے ہنسی اچھی نہیں

منہ بناتا ہے برا کیوں وقت وعظ
آج واعظ تو نے پی اچھی نہیں

زلف یار اتنا نہ رکھ دل سے لگاؤ
دوستی نادان کی اچھی نہیں

بت کدے سے مے کدہ اچھا مرا
بے خودی اچھی خودی اچھی نہیں

مفلسوں کی زندگی کا ذکر کیا
مفلسی کی موت بھی اچھی نہیں

اس قدر کھنچتی ہے کیوں اے زلف یار
لے کے دل اتنی کجی اچھی نہیں

آئیں میری بزم ماتم میں وہ کیا
ہاتھ میں منہدی رچی اچھی نہیں

شیخ کو دے دو مے بے رنگ و بو
اس کی قسمت سے کھینچی اچھی نہیں

اک حسیں ہو دل کے بہلانے کو روز
روز کی یہ دل لگی اچھی نہیں

ذرہ ذرہ آفتاب حشر ہے
حشر اچھا وہ گلی اچھی نہیں

اہل محشر سے نہ الجھو تم ریاضؔ
حشر میں دیوانگی اچھی نہیں

Rate it:
Views: 802
02 Feb, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL