دل درد سے بھرا ہے کوئی نہیں سہارہ

Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujrat

دل درد سے بھرا ہے کوئی نہیں سہارہ
پھرتا ہے کسی کے غم میں کوئی آوارہ
نڈھال ہے یا تھکا ہوا وہ عاشق آوارہ

خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات

یژ پردہ سا لگتا ہے آنکھیں ہیں نم اس کی
حال بگھڑا ہے پاؤں چھلنی، پلکیں بھاری اس کی
کسی بھی وقت نہ برس جائیں

خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات

ہاتھ خالی ہیں، دل میں سمندر بہتا ہے
منہ سے چپ مگر کچھ نہیں کہتا ہے
نجانے کسی کو ڈھنڈنے نکلا ہے

خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات

تھام کر ہاتھ اس کا دے اس کو دلاسہ
تم سے کیا چھپانہ ساجن ہے وہ تمھارا
جس کا شور ہے برپا تم ہو اس کا اثاثہ

خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات

پلکو ں میں سمانا، دعاؤ ں میں اٹھانا
پھول راہوں میں بچھادینا
نہ دل دکھانا، پاس وفا رکھ لینا

خیال رکھنا تم آج کی رات
نہ سونا تم آج کی رات

Rate it:
Views: 568
25 Aug, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL