دل سے دل کا سفر کر کے جانا یہی
Poet: ورد بزمی By: ورد بزمی, اسلام آبادمحورِ عشق بھی دائرہ بھی تُوہی
ابتدا بھی تُوہی انتہا بھی تُوہی
دل سے دل کا سفر کر کے جانا یہی
منزلِ دل بھی تُو راستہ بھی تُوہی
میرے دل میں اترتی ہیں جو سیڑھیاں
اُن سے اُترا ، اُتر کے رُکا بھی تُوہی
نَے علاجِ دلِ من بجز قربِ تُو
درد بھی میرا میری دوا بھی تُوہی
دل کی بے چینیوں سے مری جان بس
اجنبی بھی تُوہی آشنا بھی تُوہی
جس کو اوڑھے ہوا ، جو ہے نازِ وفا
اوڑھنی بھی تُوہی وہ رِدا بھی تُوہی
مجھ کو جنت بھی وہ چاہیے جس میں ہو
حُور بھی صرف تُو ، اپسرا بھی تُوہی
گلشنِ وَرۡد سے گزرے صد ناز جو
وہ نسیمِ سحر وہ صبا بھی تُوہی
وَرۡدبزمی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






