دل لگایا ہے جس سے وہ
Poet: By: AB Shahzad, Mailsiدل لگایا ہے جس سے بھلاتا گیا
روگ دل میں وہ میرے لگاتا گیا
وہ نہیں بھول پایا ادا اپنی تو
تیر نظروں سے اپنی چلاتا گیا
خواب میں میرے آیا ہے کل رات وہ
جاتے ہوئے مجھے بھی جگاتا گیا
یاد ہے وہ ابھی تک مجھے دوستو
دیپ وہ پیار کے ہی جلاتا گیا
پیار کرتا سبھی ہے صنم تو مرا
دست الفت سبھی سے بڑھاتا گیا
میں کروفر نہیں اسکی بھولا ابھی
عشق کرکے ہی دل میں سماتا گیا
جانے اتنا کہاں سے لیا پیسہ ہے
خوبصورت حسیں گھر بناتا گیا
ہوئی خاموشی محفل میں اک پل نہیں
گیت غزلیں وہ اپنی سناتا گیا
شور برپا تھا محفل میں تو
بولتا میں رہا چپ کراتا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






