دل منکر کو مسلماں بنا ڈالا توں نے
Poet: anam By: anam, karachiرنگ کو رنگ سے رنگ ڈالا توں نے
حسن شباب کو ملنگ بنا ڈالا توں نے
تیری اوڑھ ہی کھیچا چلا جارہا ہے
دل کو مسکن یار بنا ڈالا توں نے
تیری راہوں میں دید کی کسک لئے
آنکھوں کو دید کا بھکاری بنا ڈالا توں نے
شب و روز بھر رہا ہے تیرے عشق کا خمار
مجھے پتھر سے انسان بنا ڈالا توں نے
شرف بخشا ہے مجھے میری محبت کو اپنا کر
بنجر زمین دل کو گلستاں بنا ڈالا توں نے
میری آوارگی عبادت میں بدلنے لگی ہے
دل منکر کو مسلماں بنا ڈالا توں نے
مجھے کہہ کر میری جان ہو تم جاناں
مجھے مجھ ہی سےبیگانہ کر ڈالا توں نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






