تیرے نینا
Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachiکیا بتلائیں سندر ناری کیسے تیرے نین
سب جیون کی تھکن مٹائیں ایسا ان میں چین
جیسے دو جھیلیں ہوں جن میں ڈوب رہی ہو شام
جیسے تھک کر ان آنکھوں میں رات کرے آرام
دو ہیں گہرے کٹورے جن سے چھل چھل چھلکے پریت
دیکھیں یہ جس اور وہاں پر بکھریں سُر سنگیت
جیسے ان میں آن بھرا ہو سونا رنگ سویرا
جیسے دھوپ کی سنگت میں چھاؤں نے ڈالا ڈیرا
کبھی لگے کہ جیسے بیٹھے دو بھنورے کالے ہوں
کبھی لگے تتلی پھولوں کے رنگ بھرے پیالے ہوں
جگمگ جگمگ، پیس کے ہیرے رکھ دیے تشتریوں میں
جھلمل جھلمل، گھول دیے ہیں تارے ان آنکھوں میں
آنگن، جن میں چھم چھم چھم چھم پگھل کے سونا برسے
رم جھم رم جھم کلیوں اور پھولوں کی برکھا برسے
پلکیں اٹھتی ہیں تو کیا روپ نظر آتے ہیں
پلکیں جھکتی ہیں تو نگر سپنوں کے چھپ جاتے ہیں
نینوں سے پی کر مدرا میں ہر پل میں جھوم رہا ہوں
سپنوں میں یہ بھولے بھالے نینا چوم رہا ہوں
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






