تیرے نینا

Poet: M Usman Jamaie By: M Usman Jamaie, karachi

کیا بتلائیں سندر ناری کیسے تیرے نین
سب جیون کی تھکن مٹائیں ایسا ان میں چین
جیسے دو جھیلیں ہوں جن میں ڈوب رہی ہو شام
جیسے تھک کر ان آنکھوں میں رات کرے آرام
دو ہیں گہرے کٹورے جن سے چھل چھل چھلکے پریت
دیکھیں یہ جس اور وہاں پر بکھریں سُر سنگیت
جیسے ان میں آن بھرا ہو سونا رنگ سویرا
جیسے دھوپ کی سنگت میں چھاؤں نے ڈالا ڈیرا
کبھی لگے کہ جیسے بیٹھے دو بھنورے کالے ہوں
کبھی لگے تتلی پھولوں کے رنگ بھرے پیالے ہوں
جگمگ جگمگ، پیس کے ہیرے رکھ دیے تشتریوں میں
جھلمل جھلمل، گھول دیے ہیں تارے ان آنکھوں میں
آنگن، جن میں چھم چھم چھم چھم پگھل کے سونا برسے
رم جھم رم جھم کلیوں اور پھولوں کی برکھا برسے
پلکیں اٹھتی ہیں تو کیا روپ نظر آتے ہیں
پلکیں جھکتی ہیں تو نگر سپنوں کے چھپ جاتے ہیں
نینوں سے پی کر مدرا میں ہر پل میں جھوم رہا ہوں
سپنوں میں یہ بھولے بھالے نینا چوم رہا ہوں

 

Rate it:
Views: 913
05 Feb, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL