دل میں عشقَ مصطفےٰؐ ،میری متاع حیات ہے
Poet: muhammad aqeel hazoory By: muhammad aqeel hazoory, karachiدل میں عشقَ مصطفےٰؐ ،میری متاع حیات ہے
لب پر نعت مصطفےٰؐ ،میری متاع حیات ہے
لکھتا ہوں شان مصطفےٰؐ پر قصیدے ہر پل
یہ گلدستہٗ نغمات مقدس ، میری متاع حیات ہے
اشک جاری تھے تھام کر روضہٗ انور ؐ کی جالیاں
وہ لمحات گریہ زاری ،میری متاع حیات ہے
انوار الہیہ کی تھی برسات روضہٗ رسول ؐ پر
دیکھا تھا جو منظر وہ ، میری متاع حیات ہے
مدینہ کی فضاوٗں میں تھی پسینہٗ اطہر کی خوشبو
سمائی ہے روح میں جو خوشبو وہ ،میری متاع حیات ہے
تھا لطف عبادت میں جو روضہٗ رسولؐ پر
وہ لظف جسم و جاں ، میری متاع حیات ہے
تھا نظروں میں ہر لمحہ ، روضہٗ رسولؐ
وہ ایمان افروز منظر ، میری متاع حیات ہے
روزِ محشر حضوری سجے گا جب میدان حشر
اس یومِ حساب کے لیے یہ، میری متاع حیات ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






