میرا نام تیرے لب پہ آتے ہی ہجر زمانہ بھول گئی
Poet: Maria Riaz Ghouri By: MARIA GHOURI, HarooNAbadبعداز ناراضگی پیار جتانا بھول گئی
پاکے تجھے دوبارہ مسکرانا بھول گئی
تیرے کہنے پہ ہر سنگھار کیا
زلفوں میں گلاب سجانا بھول گئی
ستاروں کی تاب میں دل کا عالم لگایا ہے
چاند کو اپنے گھر بلانا بھول گئی
جس دل میں اداسی کی شام ٹھر گئی تھی
اس دل کو خوشیوں کا سویرا دکھانا بھول گئی
ہوائیں بہت خشک ہیں محبت کا احساس محسوس نہیں ھوتا
ساز ہے آندھیوں میں پر ہوائیں گنگنانا بھول گئی
میں نے اقرار کیا سر محفل اپنی چاہت کا
لیکن جسے بتانا تھا اسے بتانا بھول گئی
ہوا چلی ہے میری سہیلی بن کر اس کے در
چاہت کے طوفان کو ساتھ لانا بھو گئی
جب تیرا ہجر آتا ہے خزاں سے بدتر ہو جاتی ہوں
تیرا نام میرے لب پہ آتے ہی ہجر زمانہ بھول گئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






