دل میں نفرت کی وہ دیوار اٹھا دیتا ہے
Poet: تنظیم اختر By: تنظیم اختر, Doha Qatarدل میں نفرت کی وہ دیوار اٹھا دیتا ہے
رنجشوں کو کوئی دانستہ ہوا دیتا ہے
رخ سے پردہ وہ زرا سا جو ہٹا لیتا ہے
چاند کیوں خود کو گھٹاؤں میں چھپا دیتا ہے؟
ہوش اڑ جاتا ہے، سنبھلا نہیں جاتا مجھ سے
پردہ جب جب بھی وہ چہرے سے ہٹا دیتا ہے
آپ کا آنا یوں محفل میں سنور کر اتنا
بزم کو اور بھی رنگین بنا دیتا ہے
کیوں مہکتی ہے ہمیشہ یہ لحد کی مٹی؟
کون چادر نئی پھولوں کی چڑھا دیتا ہے ؟
نہ سمجھ اپنے سے کمزور کسی کو تنظیمؔ
داغ سورج میں بھی اک چاند لگا دیتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






