ابھی تو چاند نکلا ہے، ابھی تو رات باقی ہے
Poet: تنظیم اختر By: تنظیم, Doha Qatarابھی تو چاند نکلا ہے، ابھی تو رات باقی ہے
جو دل کو دل سے کہنی ہے، ابھی وہ بات باقی ہے
تمہارے وصل میں کب سے، زمیں پیاسی تھی اس دل کی
ابھی تو ابر چھائے ہیں، ابھی برسات باقی ہے
وہ بچپن کی حسیں باتیں، جوانی کی خرافاتیں
کہاں وہ اب حسیں لمحے، کہاں وہ بات باقی ہے
گزر جائے گی یہ غم کی، جو کالی رات چھائی ہے
سحر بھی ہوگی خوشیوں کی، جو ترا ساتھ باقی ہے
مرے دل کی تمنائیں، جو تھیں ساری ہوئیں پوری
ادھوری کو ئی خواہش ہے، نہ کوئی بات باقی ہے
فسانہ بیتی باتوں کا ، نہ چھیڑو تم ابھی تنظیم
کہ دیکھو حسن جاناں تم، ابھی تو رات باقی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






