دل ڈھونڈتا ہے تیری چاہت شب و روز

Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujrat

دل ڈھونڈتا ہے تیری چاہت شب و روز
مجھکو ہے تیرے لیے فرصت شب و روز

اک تیری نظر کرم کی ہوں محتاج
تیرے ساتھ یوں ہو رہی ہے عقیدت شب و روز

میرے قصے کہانیوں میں تیرے ہی تذکرے
پیا من میں تیری حکایت شب و روز

میرے تمام لفظ میری شاعری تیرے ہی واسطے
امڈ رہی ہے اتنی محبت شب و روز

میری آنکھوں نے بوسہ جو کیا تھا تیری آنکھوں کو
تب سے ہو رہی ہوں تیری بیعت شب و روز

میری پہلی محبت کے مسیحا تو اور فقط تجھ تک
بڑھا رہی ہوں تیری اور یوں مسافت شب و روز

میری چھت کی دیوار کے پاس تجھے سوچنا بے پناہ
تیرے واسطے ہیں فراغت شب و روز

تجھے من مندر میں دیکھ کر مسکراتے رہنا
یہی بس ٹھہر گئی ہی مجھ میں عادت شب و روز

تجھ بن جینا کیا جینا ہوا بھلا
میری زندگی کو ہے تیری ضرورت شب و روز

مل جاؤ کہیں یوں اک روز
تیرے بغیر ہیں قیامت شب و روز

Rate it:
Views: 839
22 Aug, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL