دل ڈھونڈتا ہے تیری چاہت شب و روز
Poet: Rukhsana kausar By: Rukhsana kausar, Jalal Pur Jattan, Gujratدل ڈھونڈتا ہے تیری چاہت شب و روز
مجھکو ہے تیرے لیے فرصت شب و روز
اک تیری نظر کرم کی ہوں محتاج
تیرے ساتھ یوں ہو رہی ہے عقیدت شب و روز
میرے قصے کہانیوں میں تیرے ہی تذکرے
پیا من میں تیری حکایت شب و روز
میرے تمام لفظ میری شاعری تیرے ہی واسطے
امڈ رہی ہے اتنی محبت شب و روز
میری آنکھوں نے بوسہ جو کیا تھا تیری آنکھوں کو
تب سے ہو رہی ہوں تیری بیعت شب و روز
میری پہلی محبت کے مسیحا تو اور فقط تجھ تک
بڑھا رہی ہوں تیری اور یوں مسافت شب و روز
میری چھت کی دیوار کے پاس تجھے سوچنا بے پناہ
تیرے واسطے ہیں فراغت شب و روز
تجھے من مندر میں دیکھ کر مسکراتے رہنا
یہی بس ٹھہر گئی ہی مجھ میں عادت شب و روز
تجھ بن جینا کیا جینا ہوا بھلا
میری زندگی کو ہے تیری ضرورت شب و روز
مل جاؤ کہیں یوں اک روز
تیرے بغیر ہیں قیامت شب و روز
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






