دل کا موسم کچھ یونہی بجھ سا گیا ہے ان دنوں
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiدل کا موسم کچھ یونہی بجھ سا گیا ہے ان دنوں
ایک میں ہوں اور بس اک میکدہ ہے ان دنوں
کون پکڑے گا بھلا بچوں کے قاتل کو یہاں
جس طرف دیکھوں یہی بس شور سا ہے ان دنوں
ہر طرف خوں ریزیاں ہیں ہر طرف آہ و بکا
ملک میرا بن گیا ظلمت کدہ ہے ان دنوں
حکمرانوں آپ کے بچے بھی ہوں ایسے جدا
ہر زباں سے ہی نکلتی بدعا ہے ان دنوں
اور کتنا خون بہنے کا تجھے ہے انتظار
اے خدا چپ چاپ تو کیونکر کھڑا ہے ان دنوں
پہلے روٹی نے رلایا اب تو پانی بھی نہیں
ہاۓ کتنا انس مشکل میں گھرا ہے ان دنوں
کیوں نہ باقرؔ روز غربت پر میں بھیجوں لعنتیں
جسم مفلس بیچنے پر تُل گیا ہے ان دنوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






