تو نے حقارتوں سے جھڑک کر بھگا دیا
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIتیرے جنوں میں ہم نے زمانہ بھلا دیا
راہوں میں تیری آکے خزانہ لٹا دیا
ارمان لے کے آئے تھے دیدار کا تیرے
تو نے نقاب میں وہی مکھڑا چھپا لیا
عاشق تھے ہم بھکاری نہیں تھے جنہیں یہاں
تو نے حقارتوں سے جھڑک کر بھگا دیا
خوشیوں کا ایک میلہ سجایا تھا ہم نے بھی
تو نے غموں کو لا کے وہیں پر بسا دیا
یادیں تیری ستاتی نہیں اب ہمیں یہاں
اشکوں کے ساتھ انکو ملا کر بہا دیا
لکھا تھا تیرا نام جو دل کی کتاب پر
اسکو جگر کے خون سے دھو کر مٹا دیا
امید کے چراغ جلا کر رکھے تھے جو
باد ستم نے آ کے انہیں بھی بجھا دیا
تیری اداؤں سے جو بہل جائیں ہم نہیں
وہ اور تھے جنہیں ہے تھپک کر سلا دیا
اشہر سے بچ کے رہنا کہ شعلہ صفت ہے یہ
حد سے گزرنے والوں کو اس نے جلا دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







