دل کی آواز سنائیں کبھی موقعہ جو ملے
Poet: UA By: UA, Lahoreدل کی آواز سنائیں کبھی موقعہ جو ملے
اپنی ہر بات بتائیں کبھی موقعہ جو ملے
وہ نغمہ پرکیف جو خود کو سناتے ہیں
ہم ان کو بھی سنائیں کبھی موقعہ جو ملے
کسی کے ہو کے جو کسی کے ہو نہیں پاتے
ان کے حالات بتائیں کبھی موقعہ جو ملے
نظروں سے بچا کر جو دل میں دبائے ہیں
اپنے جذبات دکھائیں کبھی موقعہ جو ملے
تیری نظر عنایت نے جو میری ذات پہ کیا
وہی احسان جتائیں کبھی موقعہ جو ملے
میری پلکوں نے جو آنکھوں میں چھپا رکھے ہیں
تمہیں وہ خواب دکھائیں کبھی موقعہ جو ملے
وہ جس جگہ خیالوں میں مکین رہتے ہیں
اسی جگہ چلے جائیں کبھی موقعہ جو ملے
عظمٰی اک بار سہی وہ دیار روح پرور
ہم بھی دیکھ کر آئیں کبھی موقعہ جو ملے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






