دل کی بغاوت
Poet: Hafeez Javed By: Muhammad Hafeez Javed, Riyadh, KSAمجھے لگا کہ میں کسی گہری نیند سے جاگ گیا
کوئی شخص میرے دل کے دریچے میں جھانک گیا
دل کے دروازے پہ دستک تو لاحاصل ہوا کرتی تھی
آج ہلکی سی دستک پہ ہی دل ہم سے کیوں بھاگ گیا
سنا تھا ہم نے کہ دل دماغ کی بات کبھی مانتا نہیں
ہم نے دیکھا، دماغ نے جب سمجھایا دل ہمارا مان گیا
حسینوں کے جلوہ حسن کو کچھ نہ سمجھنے والا دل
آج کوئی جلوہ دیکھے بنا ہی، کیوں اتنا کانپ گیا
بہت اعتبار تھا دل پہ ہم کو، آج وہ متزلزل ہونے لگا
نہ جانے دوں گا اس کو، ارادے میں اس کے بھانپ گیا
جاوید بو سونگھتا ہوں، آج کسی بہت بڑی بغاوت کی
ڈھونڈ رہا ہوں اپنے دل کو، وہ راستہ کہیں ناپ گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






