ہم کو دلربا ملے
Poet: Huma By: Huma Imran, AL-KHOBARدل کی یہ آرزو ہے ہم کو دلربا ملے
اس کی محبت کا لطف و کرم ہم کو ہی ملے
دیکھیں میرے نصیب کہ ہم کو کیا ملے
اب تک جو بھی درد ملے ان کے در سے ملے
اپنوں کی بددعا ہے ہمیں کوئی خوشی نا ملے
اللہ سے دعا ہے کبھی کوئی خوشی ہمیں بھی ملے
اس آس پر جی رہے ہیں وہ ہم سے گلے ملے
ایسے بہت سے ارمان ہیں میرے جس پر دم نکلے
اب تو یہی تمنا ہے ان کے در پر دم نکلے
شاید ہماری موت کے بعد ان کا دل بھی پگھلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






