دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے
Poet: نصیر الدین نصیر By: muhammad zubair, Chichawatniدل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے
اُن کی خوشبو ، کہاں سے آتی ہے
حدِ اوہام سے گزر کے کُھلا
خوش یقینی ،گُماں سے آتی ہے
جراتِ بندگیِ ربِ جلیل
بت شکن کی اذاں سے آتی ہے
ایسی طاقت کہ جو نہ ہو تسخیر
دل میں عزمِ جواں سے آتی ہے
اُن کی آواز میرے کانوں میں
آرہی ہے ، جہاں سے آتی ہے
سر کو توفیق سجدہ کرنے کی
یار کے آستاں سے آتی ہے
آدمیت وہاں نہیں ہوتی
کبر کی بُو جہاں سے آتی ہے
وقت کیسا قیامتی ہے آج
دھوپ اب سائباں سے آتی ہے
رات پڑتے ہی کچھ نہیں کُھلتا
یادِ جاناں کہاں سے آتی ہے
آدمی میں جمالیاتی حس
قربتِ مہ وشاں سے آتی ہے
دو قدم چل کے تم نہیں آتے
چاندنی آسماں سے آتی ہے
زندگی میں نصیر ! آسانی
ترکِ سُود و زیاں سے آتی ہے
یاد فن کے اساتذہ کی نصیر
تیرے طرزِ بیاں سے آتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






