دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے

Poet: نصیر الدین نصیر By: muhammad zubair, Chichawatni

دل کی دھڑکن کہ جاں سے آتی ہے
اُن کی خوشبو ، کہاں سے آتی ہے

حدِ اوہام سے گزر کے کُھلا
خوش یقینی ،گُماں سے آتی ہے

جراتِ بندگیِ ربِ جلیل
بت شکن کی اذاں سے آتی ہے

ایسی طاقت کہ جو نہ ہو تسخیر
دل میں عزمِ جواں سے آتی ہے

اُن کی آواز میرے کانوں میں
آرہی ہے ، جہاں سے آتی ہے

سر کو توفیق سجدہ کرنے کی
یار کے آستاں سے آتی ہے

آدمیت وہاں نہیں ہوتی
کبر کی بُو جہاں سے آتی ہے

وقت کیسا قیامتی ہے آج
دھوپ اب سائباں سے آتی ہے

رات پڑتے ہی کچھ نہیں کُھلتا
یادِ جاناں کہاں سے آتی ہے

آدمی میں جمالیاتی حس
قربتِ مہ وشاں سے آتی ہے

دو قدم چل کے تم نہیں آتے
چاندنی آسماں سے آتی ہے

زندگی میں نصیر ! آسانی
ترکِ سُود و زیاں‌ سے آتی ہے

یاد فن کے اساتذہ کی نصیر
تیرے طرزِ بیاں سے آتی ہے

Rate it:
Views: 772
18 Jul, 2018
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL