دل کی رہنمائی۔۔۔
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: اسد جھنڈیر۔۔۔, MPK پیار میں دل کی رہنمائی کر دو
یہی انصاف ھے منصفائی کر دو
کہیں ایسا نہ ہو کہ دل ٹوٹے
جانے انجانے میں بیوفائی کر دو
مانا کہ پیار نہیں ھے ہم سے
مگر کیوں اختیار تم جدائی کردو؟
خط لکھنے کا دور نہیں ابکی
وا ہی کردو۔ sms ہیں منتظر چلو
کیوں عدو کا خوف کھائو تم اتنا؟
کہیوں جاں کر نا آشنائی کر دو؟
قید الفت میں ھے دل بند
اب تو جاری حکم رہائی کر دو
چارہ صبر نہیں اسد ماسوا تیرے
سو دل میں پیدا اطمنائی کردو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






