لفظ کی قید سے رہا ہو جا
Poet: توقیر تقی By: ہارون فضیل, Islamabadلفظ کی قید سے رہا ہو جا
آ مری آنکھ سے ادا ہو جا
پھینک دے خشک پھول یادوں کے
ضد نہ کر تو بھی بے وفا ہو جا
خشک پیڑوں کو کٹنا پڑتا ہے
اپنے ہی اشک پی ہرا ہو جا
چھیڑ اس حبس میں مہکتی غزل
اور در کھولتی ہوا ہو جا
سنگ برسا رہے ہیں شہر کے لوگ
تو بھی یوں ہاتھ اٹھا دعا ہو جا
خود کو پہچان ادھر ادھر نہ بھٹک
اپنے مرکز پہ دائرہ ہو جا
اور پھر ہو گیا میں آئینہ رو
اس نے اک بار ہی کہا ہو جا
کہیں اندر سے آج بھی توقیرؔ
اک صدا آتی ہے مرا ہو جا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






