نشے میں سچ بولنا ان کا کام ہے
Poet: امیر عثمان By: Ameer Usman, Ali Pur Chathaنشے میں سچ بولنا ان کا کام ہے
میکدہ یہ رند کا ان کی شام ہے
ڈٹ کے پینے والے میری آواز سن
دیکھ کر پی جام ، ایماں کا جام ہے
جارخانہ دید مجھ کو ساقی کرا
نظروں میں رہ میری ، اللہ کا نام ہے
رات“ دن“ دوپہر“ ساقی موجِ میں ہے
میکدے میں مے پلانا کیا عام ہے
اچھے کاموں کا صلہ بھی اچھا ہے
سب برے کاموں کا برا انجام ہے
تیری صحبت کا اثر میں رکھتا ہوں
اس لیے مستی مے کی“ اب سرعام ہے
تیری صورت دیکھوں تو دل خوش ہوتا ہے
من کی مسجد صاف رکھنے سے نام ہے
عشق میں سردار سر دیں گے جب کہیں
عشق کے سودے میں سر ہی کا دام ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






