دل کی وہ ایک بات سنا کیوں نہیں لیتے

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill
New Page 1

دامن میں مرے اشک چھپا کیوں نہیں لیتے
بیتاب وحشتوں سے دعا کیوں نہیں لیتے

کب سے ہر ایک سوچ اسی ان کہی میں ہے
دل کی وہ ایک بات سنا کیوں نہیں لیتے

خوشبو بھری ہوا کا بدن ٹوٹ رہا ہے
پھولوں کو ہتھیلی میں چھپا کیوں نہیں لیتے

اک دولت نایاب ہے لمحوں کی قید میں
پلکوں کو ذرا دیر جھکا کیوں نہیں لیتے

کیوں مجھ سے پوچھتے ہو وجوہات جنوں کی
آنکھوں کو آئینے سے ملا کیوں نہیں لیتے

اے ذوق ممکنات تا وقت ردائے حشر
سینے میں اپنی خلد بسا کیوں نہیں لیتے

ہیں اس سے اپنے بیچ زمانوں کے فاصلے
دیوار اناؤں کی گرا کیوں نہیں لیتے

کیا ڈھونڈتے ہو راکھ میں تعبیر کے شعلے
تم مجھ سے مرے خواب چرا کیوں نہیں لیتے

بادل تو چھٹ چکے ہیں خدا خیر کرے گا
تاروں کو اپنے پاس بلا کیوں نہیں لیتے

بس میں ہی نہیں جان گزر گاہ وفا میں
اک سلسلہ سا تم بھی بنا کیوں نہیں لیتے

یہ روٹھنا تو صرف ہے انداز پیار کا
تم شوخ اداؤں سے منا کیوں نہیں لیتے

Rate it:
Views: 2510
24 Dec, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL