دل ہمارا گوہر غلطان بحر عشق ہے
Poet: ریحان By: ریحان, Mardanدل ہمارا گوہر غلطان بحر عشق ہے
دم ہمارا شورش طوفان بحر عشق ہے
ڈوب جاتا ہے دل اس کی موج بیتابی کوں دیکھ
بے طرح اے بوالہوس عنوان بحر عشق ہے
اشک نے گرداب باندھا ہے ہمارے آس پاس
کیونکہ نکلا جائے یہ زندان بحر عشق ہے
دل ڈوبانا عشق کے دریا کا ہے گا ابتدا
غرق کرنا جان کو پایان بحر عشق ہے
سیپی آنکھیں اشک موتی دل ہے مرجاں مچھلی آہ
ہم ہیں عاجزؔ کیا بلا سامان بحر عشق ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






