عرق جب اس پری کے چہرۂ پر نور سے ٹپکے
Poet: حذیفہ By: حذیفہ, Karachiعرق جب اس پری کے چہرۂ پر نور سے ٹپکے
خجل ہو گل سے شبنم جوں لہو ناسور سے ٹپکے
مری آنکھوں سے خونیں اشک یوں گرتے ہیں پلکوں پر
لہو سولی کے اوپر جوں سر منصور سے ٹپکے
اگر کیف سخن میرا نہال تاک کو پہنچے
صراحی شاخ بن جاوے شراب انگور سے ٹپکے
اگر اس زلف مشک آمیز سے چنی میں بال آوے
عجب میں عطر و عنبر کاسۂ نغفور سے ٹپکے
کروں فریاد رو رو یار کو جب یاد کر عاجزؔ
دم اسرافیل کا لوہو ہو بانگ صور سے ٹپکے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






