دلبری کس کو کہتے ہیں دیکھیں تو م

Poet: wasim ahmad moghal By: wasim ahmad moghal, lahore

دلبری کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔تو ہم
دل لگی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔تو ہم

اپنے چہرے سے زُلفیں۔۔۔۔۔۔ ہٹا دیجئے
روشنی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

کھلکھلا کے ہنسیں وہ مرے ۔۔۔۔۔حال پر
چاندنی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

اِک نظر مجھ کو بھی دیکھ لے ۔۔۔جانِ من
مہوشی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

میری نبضوں پہ بھی ۔۔۔۔ہاتھ رکھ دیجئے
زندگی کس کو کہتے ہیں دیکھیں ۔۔۔۔تو ہم

اِس طرف میری جانب بھی ۔۔چشمِ کرم
میکشی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

وہ خودی جس کو کہتے ہیں ۔۔۔خود دیکھ لیں
بے خودی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔تو ہم

پھر کبھی سب سے کہتے رہے۔۔۔ آج تک
وہ ابھی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔ تو ہم

وہ کلی مجھ سے کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔جانِ وفا
بےکلی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔ تو ہم

اُن کی زلفوں کے سائے تلے۔۔۔۔ بیٹھ کر
تیرگی کس کو کہتے ہیں دیکھیں ۔۔۔۔تو ہم

دوستی آپ کی دشمنی ہی ۔۔۔۔۔۔۔تو تھی
دشمنی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔ تو ہم

کیا مرے دل سے نازک ہے ۔۔ان کا وجود
نازکی کس کو کہتے ہیں دیکھیں ۔۔۔۔۔تو ہم

وہ بھی آئے ہیں پھولوں کو تھامے ہوئے
اب ہنسی کس کو کہتے ہیں دیکھیں ۔۔تو ہم

مے کدہ میں وہ کب آئیں گے۔۔۔۔ ساقیا
کھلبلی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔۔ تو ہم

نہ عشوہ نہ غمزہ نہ کوئی ۔۔۔۔۔۔۔اور بات
دل کشی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

"کھینچ دو اِس کو بھی دار پر ۔۔۔۔۔۔۔دوستو
عاشقی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔۔ تو ہم"

روک کر ایک دن مجھ سے ۔۔۔۔۔کہنے لگے
"لعنتی کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔۔ تو ہم"

آپ کچھ تو سنا دیجئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا و سیم
شاعری کس کو کہتے ہیں دیکھیں۔۔۔۔ تو ہم

Rate it:
Views: 496
06 Jun, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL