دو لاین والی شاعری
Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham(61)
آیا ہی تھا میرے لب پر بے وفا کا نام
کچھ دوستوں نے ہاتھ پتھر اُٹھا لیے
(62)
وہ پتھر تھا میں شیشہ تھا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلا
اُس نے ٹھوکر لگانی تھی مجھے ٹوٹ جانا تھا
(63)
دسمبر میں کہا تھا کہ واپس لوٹ آوں گا
ابھی تک تم نہیں لوٹے دسمبر لوٹ آیا ہے
(64)
عشق آنکھوں میں میری دیکھ کر روتے کیوں ہو
دل بھر آتا ہے تو پھر مجھ کو رولاتے کیوں ہو
(65)
آپ کے انتظار میں سجتی سنورتی رہتی ہے یہ پگلی
آپ کو یاد نہ کروں دن میں ایسی کوئی گھڑی نہیں جاتی
(66)
اپنے ساۓ سے بھی اشکوں کو چھپا کر رونا
جب بھی رونا ہو چراغوں کو بجھا کر رونا
(67)
مسافر ہوں میں بھی مسافر ہو تم بھی
پھر کہیں کسی موڑ پر ملاقات ہو گی
(68)
اب بھی اس کے خط آتے ہیں
بھیگے بھیگے اور بھینے جادو میں لپٹے
(69)
آخری خط میں اُس نے لکھا تھا
کہ مسعود تم مجھے یاد آتے ہو
(70)
ہاں یہ تو سچ ہے ہم نے تیری قدر کی
مگر تو اس توجہ کے قابل ہی نہیں تھا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






