دوست تو دوست ہیں دُشمن بھی جگہ پاتے ہیں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKدوست تو دوست ہیں دُشمن بھی جگہ پاتے ہیں
دِل بڑا ہو تو سبھی اُس میں سما جاتے ہیں
اصل سے اپنے کوئی دُور نہیں جا سکتا
پنچھی کتنا بھی اُڑیں لوٹ کے گھر آتے ہیں
وہ کبھی بھی مجھے پہچان نہیں پائیں گے
میرے احساس کی شدِت سے جو گھبراتے ہیں
ہم نوالہ تھے اقارب جو بھلے وقتوں میں
مِل بھی جاِئیں جو سرِ راہ تو کتراتے ہیں
واسطہ اُن کا نہیں ہوتا محبت سے کوئی
فلسفہ عِشق و محبت کا جو سمجھاتے ہیں
زندگی سے تو نہیں ہوتا تعلق اُن کا
ایسے کردار فلموں میں نظر آتے ہیں
اُن کو ہوتا نہیں احساس بھی اِس کا عذراؔ
باتوں باتوں میں مرا دِل جو دُکھا جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







